پرنٹاس ڈیزائنگ انسٹیٹیوٹ سے روزنامہ پرنٹاس پچیس سال کا سفر



یہ2007کی بات ہے،گرافک ڈایزئنر بننے کا نیا نیا شوق ہوا کسی ذریعے سے پرنٹاس انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزائنگ کا تعارف ہواجو راولپنڈی سرکلر روڈ پر واقع تھا۔میرا اس قبل سرکلر روڈ کا اتنا زیادہ تجربہ نہ تھا۔اس وقت غالبا ہزاریا پندرہ سو روپے فیس تھی۔پرنٹاس میں ایک گھنٹے کی کلاس ہوتی جو صبح آٹھ سے لیکر رات تک جاری رہتی دن میں کھانے اور آرام کا وقفہ ہوتا یا کچھ طالبعلم جو کورس مکمل کرچکے ہوتے ان کو پریکٹس کے لیے دن کے اوقات میں وقت دیا جاتا جہاں پر ادارے کے کمپیوٹرز پر وہ ٹائپنگ اور دوسری پریکٹس کرتے۔کورس کا آغاز ان پیچ سے ہوتا سب سے پہلے ٹائپنگ سیکھائی جاتی اس کے بعد ان پیچ کی شارٹ کیز اور پھر کورل ڈرا او ر ایڈوب فوٹو شاپ۔جو طالبعلم کورل ڈرا اور ایڈوب فوٹو شاپ مکمل کرلیتے تو کچھ ماہ تک ان کو پریکٹس کروائی جاتی پھر اس کے بعد پرنٹنگ کی عملی تربیت دی جاتی جہاں پر پیپر کے سائز سے لیکر پرنٹنگ کی مختلف مشینو ں عملی تربیت دی جاتی اور اس تربیت کے بعد ایک طالب علم جو چھ ماہ قبل معاشرے کا بے کار فرد ہوتا،اس تربیت کے بعد معاشرے کا کارآمد فرد بن کر اپنے ہنر کے ذریعے ناصرف اپنے گھر والوں کے لیے ایک باعزت روزگارکما رہا ہوتا بلکہ بعدمیں دوسرے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا زریعہ بھی بنے۔ان تمام باتوں کا علم تو بعد میں ہوا۔خیر فیس ادا کرکے کورس میں داخلہ لیا۔سرکلر روڈ پر دوسری منزل پر ایک طرف پرنٹاس انسٹی ٹیوٹ تھا جبکہ اس کے ساتھ ہی پرنٹاس پرنٹنگ پریس کا آفس جہاں پر ملک جعفر علی بیٹھتے تھے۔ان کے ساتھ ایک او ر شخصیت بھی ہوتی تھی۔مجھے کورس کرتے پندرہ دن سے زائد کا وقت ہوچکا تھا۔میں وقت پر کلاس لیتا اور باقاعدگی سے ان پیچ سیکھ رہا تھا۔ٹاپننگ کے بعد میرا ان پیچ کی شارٹ کیز کا مرحلہ جاری تھا۔ایک دن ایسا ہوا کہ چھٹی کے بعد ملک جعفر صاحب کے ساتھ جو دوسری شخصیت تھی ان سے تعارف ہوا۔یہ انتہائی پرکشش شخصیت تھے۔انھوں نے میرا تفصیلی انٹرویو لیا۔اس دن ان سے ملاقات نہ ہوتی تو شاید میں بھی گرافک ڈیزائنر بن جاتا یا شاید نہ بھی بنتا تو یہاں تک نہ پہنچتا۔انھوں نے مجھ سے کافی سوالات پوچھے میں نے انھیں صحافت کے حوالے سے اپنے کام سے متعلق بتایا۔انھوں نے بتایا کہ ہمارا بھی ایک میگزین ہے جس کا نام ماہنامہ روابط ہے۔اب صحافت میر ا شوق تھا بلکہ یہ سمجھیں جنون تھا۔اب میری تمام تر دلچسپی ماہنامہ روابط کی طرف ہوگئی۔وہ شخصیت جن کا نام سردار امتیاز خان سدوزئی تھا ان کی پوری کوشش تھی کہ میں صحافت کے ساتھ ساتھ گرافک ڈیزائنگ کا کورس بھی جاری رکھوں اور کورس کو مکمل کرکے ایک صحافی کے ساتھ ساتھ گرافک ڈیزائنر بھی بنوں مگر میری گرافک ڈیزائنگ کی طرف توجہ ہی نہ تھا یا کوشش کے باوجود میرا اس میں دل ہی نہ لگتا تھا حالانکہ امتیاز صاحب نے میر ی فیس بھی معاف کردی تھی اور شروع کی فیس کے بعد میں نے فیس دی ہی نہیں ۔اس وقت ایک معیاری ماہنامہ کی بہت وقعت ہوتی تھی اور صحافت کے میدان میں اس طرز کے معیاری میگزین بہت کم تھے اور جو تھے بھی وہ سرمایہ داروں کے قبضے میں تھے اس میں تحریر چھپوانا جوئے شیر لانے مترادف تھا۔مجھے انھوں نے روابط میگزین کا ایگزیکٹو ایڈیٹر بنادیا۔میں نے اس کے لیے بہت سے انٹرویو کیے۔کافی کام کیا۔میگزین کو مری میں بھی متعارف کروایا اس سے قبل روابط میگزین راولپنڈی،اسلام آباد اور دیگر شہروں میں کافی مقبول تھا اس کے بعد مری میں بھی اس کا خاصا نام ہوگیا کئی دفعہ تو میگزین کے دس صفحات پر مری سے متعلق مواد شائع ہونے لگا۔مجھے اعزازی طور پر سو میگزین بھی فراہم کرتے جنھیں میں اپنی مرضی سے تقسیم کرتا اور مواد بھی میرا تحریرکردہ ہوتا۔دیگر میگزین یا رسائل میں انٹرویو ز کے شائع کرنے کا باقاعدہ معاوضہ لیا جاتا مگر روابط میگزین میں تمام انٹرویوز مفت شائع ہوتے کسی سے کوئی رقم نقد یا اشتہارات کی شکل میں نہ لی جاتی،یہ صحافت کی دنیا میں ایک نئی بات تھی۔اشتہار بھی اگر کوئی اپنی مرضی سے دینا چاہے تو ٹھیک کبھی کسی کو کہانہیں جاتاتھا۔روابط میگزین کے بعد سردار امتیاز صاحب کا خواب تھا کہ میں روزنامہ اخبار شروع کروں۔روزنامہ اخبار ایک مشکل کام تھا او ر ایک عام سے متوسط طبقے کے فرد کے لیے جو بلیک میلنگ نہ کرتا ہو۔کوئی غیر قانونی دھندہ یا بلیک منی نہ ہو،یہ انتہائی مشکل کام تھا مگر امتیاز صاحب جس بات کا ارادہ کرلیتے اس کو تکمیل تک ضرور پہنچاتے انھوں نے روزنامہ پرنٹاس کا ڈیکلریشن لیااور راولپنڈی سے روزنامہ اخبار کا آغاز کردیا اس دوران بہت سی مشکلات آئیں مگر انھوں نے ہمت نہ ہاری اس اخبار کو آڈٹ بیورو آف سرکولیشن سے سرٹیفکیٹ دلوایا اب یہ اخبار سنٹرل میڈیا لسٹ پر ہے۔

پرنٹنگ اور صحافت سے ہٹ کر بھی سردارامتیاز صاحب ایک علمی اور ادبی شخصیت ہیں۔وہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی،مولانا عبیداللہ سندھی اور دیگر اکابرین دین سے بہت زیادہ متاثر ہیں۔اسی بنا پر انھوں نے اپنے بیٹے کا نام بھی عبیداللہ سندھی رکھا۔اب ان کے نئے دفتر جو سابقہ ناز سینما کے بالمقابل گلفشاں جیولرز والی گلی میں واقع ہے وہاں ان کا انسٹی ٹیوٹ بھی ہے وہاں جانے کا اتفاق ہوتو آپ کو مولانا عبیداللہ سندھی کی ایک بڑی سی پوٹریٹ دیکھنے کو ملے گی جو ان کی ان عظیم شخصیات سے محبت کی عکاسی کرتی ہے۔وہ 2007سے کوشش کررہے تھے کہ مجھے اصل اسلام سے متعارف کروایں مگر میں ہمیشہ اپنے علمی اور صحافتی زعم میں ہی رہا۔وہ اکثر مجھے جھوٹا صحافی بھی کہتے اس پر مجھے غصے بھی بڑا آتا کہ میں اتنا پڑھا لکھا۔ایک قومی معیار کا صحافی بھی ہوں مگر اس کے بعد باوجود مجھے جھوٹا صحافی کہتے ہیں،یہ تو بعد میں سمجھ آئی کہ ابو جہل جو مکے کا سب سے پڑھا لکھا شخص تھا اور اس کو لوگ ابو الحکم یعنی حکمت کا باپ کہتے تھے مگر اسلام نے اس کو ابوجہل کا خطاب اس لیے دیا کہ وہ حق کو سامنے دیکھ کر اس کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔وہ بڑی کوشش کرتے رہے مجھے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور شیخ الہند، مولانا عبیداللہ سندھی جیسے اکابرین کے نظریات سے متعارف کروایں۔2007سے لیکر 2017تک ان کی کوششوں کے بعد بالاخر مجھے وہ ان عظیم شخصیات سے متعارف کروانے میں کامیاب ہوگئے۔اصل میں جھوٹ اور پروپگنڈے کیے ذریعے تحریک آزادی کے لیے اصل میں قربانیاں دینی والے شخصیات کے حوالے سے قوم کو لاعلم رکھا گیا اور بعض شخصیا ت کو تو غدار اور کافر قرار دے کر کئی نسلوں کو اس لاعلم اور بے خبر رکھا گیا۔کئی ماہ کی تربیت کے بعد جب میں اصل اسلام اور دین کے اصل اکابرین سے متعارف ہوا تو شخصیت پرستی کا خول مجھ سے اتر گیا اور حقائق کو تعصب کی عینک اتار کر دیکھا تو پاکستان کے اصل مسائل اور ان مسائل کی وجوہات اور جڑ سمجھنے لگے پھر انھوں نے بتایا کہ آپ کو جھوٹا صحافی اس لیے کہتے تھے کہ آپ کو ساری زندگی جھوٹ ہی پڑھایا گیا تھا اور اصل حقائق سے آپ بے خبر تھے۔اس کے بعد انھوں نے مجھے عربی گرائمر اور کالم نگاری کا خصوصی کورس بھی کروایا۔اب جو کچھ میری شخصیت کے اندر موجود ہے وہ ان کی تربیت کا نتیجہ ہے باقی جو کمی،کوتاہیاں ہیں وہ میر ی وجہ سے ہیں۔ پرنٹاس پرنٹنگ پریس اور پرنٹاس انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزائنگ کو 25سال مکمل ہوچکے ہیں۔اس دوران 19000کے قریب ان کے شاگرد جو اندرو ن اور بیرون ملک ڈیزائنگ کے علاوہ میڈیا انڈسٹری میں موجود ہیں۔کچھ ان کے شاگرد اینکر پرسن بھی ہیں۔اگر کوئی شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ معاشرے کے لیے ایک بیکار عضو ہے تو اس کو فوری پرنٹاس انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزائنگ میں داخلہ لے کر تمام کورس مکمل کرناچاہیں بلکہ امتیاز صاحب کی نگرانی میں تربیت کی تمام منازل طے کرنی چاہیے۔انشاء اللہ وہ دنیا او ر آخرت میں مایوس نہیں ہوگا۔



Post a Comment

0 Comments